ابنا: رشيا ٹوڈي کے مطابق يمن کے عوام نے ايک بار پھر ملک کے مختلف شہروں ميں مظاہرے کئے ہيں- مظاہرين خليج فارس تعاون کونسل اور امريکہ کے حمايت يافتہ منصوبے کے تحت عبداللہ صالح کو عدالتي کاروائي سے استثني قرا ديئے جانے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے-
رپورٹ کے مطابق صوبہ الضالع اور اب ميں مظاہرہ کرنے والے ، عبداللہ صالح کے قريبي ساتھيوں اور رشتہ داروں کو اہم سيکورٹي اور سرکاري عہدوں سے برطرف کئے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے- دارلحکومت صنعا ميں مظاہروں کا دائرہ ملک کے نمائشي صدارتي انتخابات ميں کامياب ہونے والے نئے صدر عبدربہ منصور ہادي کي قيام گاہ تک پھيل گيا -
عبدربہ منصور نے جو ملک کے نام نہاد صدارتي انتخابات ميں واحد اميدوار تھے ، ہفتے کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھاليا ہے-
واضح رہے کہ تيئيس نومبر دوہزار گيارہ کو رياض ميں خليج فارس تعاون کونسل کے منصوبے کے تحت عبداللہ صالح نے ايک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے جسکے تحت عبداللہ صالح نے اقتدار سے کنارہ کشي اختيار کرلي تھي اور اس کے بدلے انہيں عدالتي کاروائي سے استثنا ديا گيا ہے........
/169